آپﷺکے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جتنے انبیاء کرام علیہم الرضوان کو بھیجنا تھا، وہ سب آچکے ، ان میں سے صرف ایک ہستی باقی تھی جسے سب سے آخر میں بھیجا جانا تھا پھر انہیں سب سے آخر میں بھیجا گیا جو حضور کی ذات بابرکات ہے۔ عليه افضل الصلوات واكمل التسليمات ۔ اب پڑھیے اس کے کچھ دلائل ۔
خاتم النبيين بمعنى آخر النبيين دلائل سے خود پیش نظر آیت بھی ہے تفصیل یہ ہے کہ اس میں جو لفظ خاتم وارد ہے اس میں دو قرائتیں ہیں :
(1) خاتم یعنی ت کی فتح (زبر) کے ساتھ جیسا کہ قرآن کے پورے جہان کے مروجہ نسخہ میں ہے۔
(2) خاتم کی کسرہ (یعنی زیر) کے ساتھ۔
اور یہ دونوں قراء تیں متواتر یعنی قطعیت کے ساتھ ثابت ہیں جن کے ثابت ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔
جن کا انکار کفر اور منکر، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ خاتم بكسر التاءصیغہ اسم فاعل ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ختم کرنے یا مہر لگانے والا ۔ جبکہ خاتم بفتح التاءاسم آلہ کا صیغہ ہے جیسے عالم ، وغیرہ معنی ہے ختم کرنے یا مہر لگانے کا آلہ ۔ یہ دونوں عربی مروج ہیں،
پہلے معنی کی مثال جیسے خَاتِمَهُ الْكِتَابِ، خَاتِمَہ بِالْخَيرُ نیز حدیث شریف میں ہے: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيم ( رواه الترمذی)
دوسری معنی کی مثال جیسے: خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، نیز خَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وغيرهما
یہ معنی اول کی صورت میں حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا معنی ہوگا سلسلہ نبوت کی تکمیل کرنے والا اور سلسلہ نبوت کی تکمیل کا ذریعہ یعنی جن کے ذریعہ اس سلسلہ کی تکمیل ہوئی اور جن پر یہ سلسلہ مکمل ہوا اس طرح سے کہ آپ ﷺان سب میں آخری ہیں۔
معنی دوم کی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید اپنے زمانہ نزول کے عرف و عادات کی رعایت سے اترا ہے جبکہ اس دور کے معاشرہ کے بڑے سمجھے جانے والے مختلف علاقوں کے بہت سے لوگوں میں یہ معمول تھا کہ کسی معتبر شخصیت کے خطوط اور مکاتیب کو اس کی مہر کے بغیر درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے بناء علیہ مکاتیب مرسلہ اور موصولہ وہی معتبر سمجھتے تھے جن کی تحریروں کے آخر پر مہر ہوتی تھی اس کے بغیر وہ جعلی متصور ہوتے تھے اور کم از کم یہ کہ انہیں مشکوک سمجھا جاتا تھا۔ نشان مہر کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ مطلوبہ تحریر یہاں تک مکمل ہے نیز یہ کہ یہ تحریر واقعی مہر کندہ کی ہے۔
اسی تناظر میں ہمارے حضورﷺنے بھی اپنے والا ناموں کے لئے مہر بنوائی (تفصیلات کتب سیرت طیبہ میں دیکھی جاسکتی ہے )
یہی وجہ ہے کہ یہ امر آج بھی مروج ہے کہ فتوٹی وغیرہ میں جو عبارت دستخط اور مہر کے بعد تذیلاً واقع ہوتی ہے اسے جعلی سمجھے جانے سے بچانے کے لئے اس پر مزید دستخط و مہر ثبت کیے جاتے ہیں۔ پھر مہر عموماً انگوٹھی میں بنائی جاتی تھی اس لیے انگوٹھی کو عربی میں خاتم بھی کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ پانی الایام کو خاتم کے لفظوں سے یاد فرما کر آپ کو خاتم النبیین کہا گیا اور مسئلہ ختم نبوت کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا۔
اس تفصیل سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ آیت کے الفاظ ”خاتم النبيين“ میں لفظ خاتم میں تاء کی فتح والی قرآت کو ملحوظ رکھیں یا کسرہ والی قرآت کو، بہر صورت یہ الفاظ حضورﷺکے خاتم النبین ہونے کی دلیل ہیں جو اسی مفہوم کو بیان فرمانے کے لئے ہی لائے گئے ہیں ۔ ولله الحمد وهو المقصود
(ماخوذ ۔۔۔ عقیدہ ختم نبوت ۔۔۔از مفتی عبد المجید سعیدی)