بعض مرزائی یہاں یہ کہہ دیتے ہیں کہ آیت کریمہ کے الفاظ خاتم النبیین میں خاتم آلہ ختم اور مہر لگانے کے معنی ہی میں ہے اسی خاتم کا معنی ہے ختم یعنی مہر لگانے والا ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حضور کی شان یہ ہے کہ آپ کی مہر سے نبی بنتے ہیں لہذا مرزا حضور کی مہر سے نبی ہے۔
ختم کا مادہ مہر لگانے کے معنی کے علاوہ کسی چیز کو پایہ اختتام تک پہنچانے کے معنی میں بھی آتا ہے نیز یہ بھی مدلل بیان ہو چکا ہے کہ یہاں مہر لگانے سے مراد بھی اس سلسلہ کا پایہ اختتام کو پہنچانا ہی ہے۔
بناء علیہ یہاں مہر لگانے سے مراد نبی بنانے کی مہر لگانے نہیں بلکہ حضور کے بعد نبوت و بعثت انبیاء کرام
کا سلسلہ نہ ہونے کی مہر لگانا ہے کیونکہ حضور کے بعد نبی بنانے کی مہر لگانے کے معنی سے ختم کے دونوں معانی آپس میں متصادم ہو جائیں گے جب کہ قرآن اس سے قطعاً پاک ہے کہ اس میں تعارض ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدَ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا 1
یعنی اگر یہ قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں کثرت سے دو دو باتیں ہوتیں جو آپس میں ٹکرانے والی اور متعارض ہوتیں ۔
اس کی مزید دلیل وہ متواتر احادیث بھی ہیں جن میں صراحت کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ میں اس معنی میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد نبوت و بعثت نہیں نیز یہ کہ جو اس کا مدعی ہو وہ دجال اور کذاب ہے ، نیز اجماع امت بھی اس کی دلیل ہے۔
خلاصہ یہ کہ اس میں نبی بنانے کی مہر لگانا مراد نہیں بلکہ حضور کے بعد سلسلہ نبوت نہ ہونے کی مہر لگانا ہے۔
اس سے قطع نظر بر تقدیر تسلیم نبی بنانے کی مہر لگانا بھی مراد لیا جائے تو بھی مرزائیوں کو اس کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ اس صورت میں زمانہ قبل تخلیق آدم
کے عالم میں مہر لگانا مراد ہوگا کہ جتنے نبی اس دنیا میں مبعوث ہوئے وہ اسی عالم ہی سے نبی بن کر آئے یہاں آکر نبی نہیں ہے ۔ بالفاظ دیگر نبی ہونے کی مہر انہیں اسی عالم میں لگائی گئی ، اس دنیا میں آنے کے بعد نہیں۔
خاتم پڑھنے کی صورت میں مہر لگا نا فعل الہی ہو گا جب کہ خاتم پڑھنے کی صورت میں مہر لگانا عمل نبی ﷺ ہوگا یعنی مہر یا تو اللہ نے لگائی ہوگی یا نبیﷺنے۔
دونوں صورت میں یہ عالم غیب کا امر ہے جس کے لئے ڈھکوسلے اور اٹکل پچو سے کام نہیں چلتا بلکہ قرآن وحدیث ہی کام دیتے ہیں۔
پس مرزا کو بھی اگر نبی بننے کی مہر لگی تھی تو بتائیے کس نے لگائی تھی ؟ اللہ نے یا سرکارﷺ نے؟ پھر اس کا بیان کسی صریح آیت یا کسی صریح حدیث میں ہے؟ فَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ
البتہ مرزا کے اس دعوئی میں سخت جھوٹے اور باطل ہونے کے بے شمار ٹھوس دلائل موجود ہیں جو آئندہ صفحات میں خصوصی عنوان کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔
فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ 2